وضو کے طبی و سائنسی فوائد

اللہ تعالیٰ کی لاتعداد نعمتوں میں سے وضو ایک ایسی نعمت ہے  جو نہ صرف ہمیں بہت سے امراض سے بچاتا ہے بلکہ بہت سے ایسے امراض کا علاج بھی خود کر دیتا ہے۔ جن کے بارے میں ہمیں پتا ہی نہیں ہوتا۔ وضو نہ صرف جسمانی بیماریوں کوختم کرتا ہے بلکہ ذہن کے ناپاک خیالات ،ناامیدی ،ذہنی کمزوری، گھبراہٹ،بے جا خوف اور ڈپریشن سے بھی نجات دلاتا ہے۔ اس سےجہاں دنیاوی زندگی سکون اور اطمینان سے بسر ہوتی ہے۔ وہاں اخری زندگی بھی سنور جاتی ہے۔

وضو نفسیاتی امراض کے خاتمے کا بہترین نسخہ ہے۔ مغر بی ماہرین نفسیاتی مریضوں کے علاج کے لئے دن میں کئی مرتبہ ان کے بدن پر پانی ڈالتے ہیں۔ اسی طرح غصہ کیلئے شرعی حکم ہے کہ جب غصہ ہو تو وضو کرلیا کرو۔وضو کرنے سے بڑھا ہواخون کا دباؤ (بلڈ پریشر) کم ہوجاتا ہے۔وضو انسانی جلد کو نرم رکھتا ہے جس کی وجہ سے سورج سے نکلنے والی شعا عیں جسم پر کم اثر کرتی ہیں۔ بالخصو ص نہ ڈھاپنے جانے والے اعضاءکو یہ بہت سے نقصانا ت سے بچاتا ہے۔ اس طرح وضو بہت سے کیمیاوی مواد کو بھی انسانی جلد میں سرایت کرنے سے محفوظ رکھتا ہے۔

وضو کی خصوصیات

وضو کے دوران ہاتھ دھونے سے ہاتھوں پر موجود جراثیم اور گندگی دور ہو جاتی ہے۔ اور صاف ہاتھوں سے کھانا کھانے سے انسان پیٹ کی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔ اسی طرح کلی کرنے سے نہ صرف منہ کی صفائی ہوتی ہے بلکہ منہ سے آنے والی نا خوشگوار بدبو کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔کلی کرنے سے  دانتوں اور مسوڑھوں کے ساتھ چمٹے ہوئے ذرات بھی اتر جاتے ہیں۔روزانہ دس سے پندرہ بار کلی کرنے سے دانتوں کی بیماری "پائیریا” سے بھی نجات مل جاتی ہے۔

ناک میں پانی ڈالنے سے ناک کی صفائی ہوجاتی ہےہم جس ہوا میں سانس لیتے ہیں اس کے اندر بے شمار جراثیم  پھلتے پھولتے رہتے ہیں۔ اور یہی جراثیم دھول، مٹی، گردوغبار کی صورت میں ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر ناک کی صفائی نہ کی جائے تو یہ بہت سے امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق جزام کے جراثیم سب سے پہلے ناک ہی کو اپنا مسکن بناتے ہیں۔ اس لیے ناک کی صفائی انتہائی  ضروری ہے۔

وضو کے دوران ناک کی صفائی کرنے سے ناک کے اندر منجمد بلغمی رطوبتیں ختم ہوجاتی ہیں جس سے ہوا میں سانس لینے میں آسانی رہتی ہے۔ ماہرین "ہائیڈروپیتھی” یعنی پانی سے علاج کے ماہرین کے نزدیک ناک میں پانی ڈالنا بصارت (نظر) کو بھی تیز کرتا ہے۔

وضو کے دوران چہرے پر تین بار ہاتھ پھیرنے سے نہ صرف دماغ پر سکون ہوتا ہے بلکہ چہرے کے عضلات میں چمک اور جلد میں نرمی اورلطافت پیدا ہوجاتی ہے۔ گردو غبار صاف ہوکر چہرہ بارونق و پرکشش اور بارعب ہوجاتا ہے۔ آنکھوں کے عضلات کو تقویت پہنچتی  ہےاور  آنکھیں پرکشش خوبصورت اور پرخمار ہوجاتی ہیں۔

چینی ماہرین کی تحقیق کے مطابق چہرہ دھونے سے پیٹ میں چھوٹی آنت، سینہ، بڑی آنت وغیرہ پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کی بدولت آشوب چشم، چکر آنا، کمزوری، دانتوں کی کمزوری، سردرد، تھکاوٹ، اسہال اور گھبراہٹ وغیرہ میں نمایاں کمی ہوتی ہے وضوکے دوران چہرہ دھونے سے بھنویں پانی سے تر ہوجاتی ہیں اور میڈیکل اصول کے مطابق بھنویں تر کرنے سے آنکھوں کے ایک ایسے مرض کے امکانات ختم  ہوجاتے ہیں۔ جو انسان کو بصارت سے محروم کر سکتا ہے۔

وضو کے دوران کہنیاں دھونے کی بہت سی حکمتیں اور فوائد ہیں۔ کہنی پر تین بڑی رگیں ہوتی ہیں جن کا تعلق بالواسطہ دل، جگر اور دماغ سے ہوتا ہے ۔کہنیاں زیادہ تر ڈھکی رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں ہوا اور پانی کی فراہمی نہ ہونے کی  وجہ سے متعدد دماغی اور اعصابی امراض پیدا ہوسکتے ہیں۔

وضوکے دوران کہنیوں سمیت ہاتھ دھونے سےنہ صرف دل، جگر اور دماغ کو تقویت پہنچتی ہےبلکہ ان سے متعلقہ امراض کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے۔مزید یہ کہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھونے سے سینے کے اندر ذخیرہ شدہ روشنیوں سے براہ راست انسان کا تعلق قائم ہوجاتا ہے اور روشنیوں کا ہجوم ایک بہاؤ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس عمل سے ہاتھوں کے عضلات یعنی کل پرزے مزید طاقتور ہوجاتے ہیں۔

وضو کے دوران سر پر گیلا ہاتھ پھیرنے سے بالوں پر چڑھا ہوا گردوغبار صاف ہوجاتا ہے۔ یوں دن میں پانچ مرتبہ دماغ کو ہلکی ٹھنڈک کا غسل دینے سے کھوپڑی کے اندر ڈھکے ہوئے دماغ کو تسکین ملتی ہے۔اوردماغی ارتعاش یعنی تحریکات طاقتور ہونے لگتی ہیں۔ سر کے مسح سے چکر، زکام نیند  کی کمی وغیرہ میں افاقہ ہوتا ہے۔

وضو کے دوران  مسح کرتے وقت شہادت کی انگلیاں گیلی کرکے کانوں میں ڈالتے ہیں جس سے کانوں کی صفائی ہوتی ہے۔انگلیوں کے ساتھ تری کانوں میں پہنچتی ہے اس سے سننے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کانوں کے پیچھے جو خالی جگہ ہوتی ہے جہاں بال نہیں ہوتے اس حصے کو تر کرنے سے انسان نظر کی کمزوری سے محفوظ رہتا ہے

وضو کے دوران گردن کا مسح کرنے سے جسم کو ایک خاص قسم کی توانائی نصیب ہوتی ہے۔ جس کا تعلق ریڑھ کی ہڈی کے اندر حرام مغز اورتمام جسمانی جوڑوں سے ہے کیونکہ جب کوئی نمازی گردن کا مسح کرتا ہے تو ہاتھوں کےذریعے برقی رو نکل کر "حبل الورید” میں ذخیرہ ہوجاتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی سے گزرتے ہوئے جسم کے پورے اعصابی نظام کو توانائی بخشتی ہے۔ یادرہے یہ وہی حبل الورید ہے جس کو رگ جان (شہ رگ)بھی کہتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ” میں شہ رگ سے زیادہ قریب ہوں”

گردن کا مسح کرنے سے برھاپے میں رعشہ یعنی سر ہلتے رہنے کی شکایت نہیں ہوتی کیونکہ جہاں گردن کا مسح کیا جاتا ہے وہیں میڈولا ہوتا ہے پانی سے تر ہاتھ لگنے سے وہاں خون کی گردش تیز ہوجاتی ہے اور میڈولا میں لچک برقرار رہتی ہے۔وضو کے دوران گردن اور کانوں کی پشت پر ٹھنڈا ہاتھ پھیرنے سے ان کے اعصاب مضبوط ہوتے ہیں اور تکان دور ہوتی ہے۔نیز لو لگنا اور گردن توڑ بخار کا خاتمہ ہوتا ہے۔

انسان کے دماغ سے سگنل پورے جسم میں جاتے ہیں جس سے ہمارے تمام اعضا کام کرتے ہیں لہذا دماغ سے بہت سی باریک رگیں بن کر آرہی ہیں جو ہماری گردن کی پشت سے ہوتی ہوئی پورے جسم کو جاتی ہیں جسم کے اس حصے کے خشک رہنے کی وجہ سے بعض اوقات ان رگوں میں خشکی پیدا ہوجاتی ہےجس سے بہت سی جسمانی اور نفسیاتی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں لہذا ماہرین کی رائے میں دن کے مختلف اوقات میں گردن کی پشت کو متعدد بار تر کیا جانا چاہیے۔

پاوں اکثر ٹخنوں تک ننگے رہتے ہیں اور گرد و غبار پڑتا رہتا ہے لہذا پاوں دھونے سے پاوں صاف ہوجاتے ہیں ان کا میل کچیل دھل جاتا ہے۔ اگرپاوں میں موزے پہنے ہوں تو ایسے میں اکثر بند جوتے استعمال کیے جاتے ہیں جن کو زیادہ دیر استعمال کیا جائے تو عفونت یا سرانڈ پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات پاوں پک بھی جاتے ہیں ایسے میں پاوں دھونا ان مسائل سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔اچھی صحت کاراز آپ کے پاؤں میں پوشیدہ ہے، جانیے کیسے؟؟

وضو کی ترتیب کی اہمیت

اللہ تعالیٰ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا ۔وضو میں ترتیب وار اعضا ءدھونے میں بھی کئی حکمتیں پوشیدہ  ہیں۔ وضو کے دوران پہلے ہاتھوں کو پانی میں ڈالنے سے جسم کا اعصابی نظام مطلع ہوجاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ چہرے کی رگوں کی طرف اس کے اثرات پہنچتے ہیں۔ وضو میں پہلے ہاتھ دھونے، پھر کلی کرنے پھر ناک میں پانی ڈالنے، پھر چہرہ اور دیگر اعضاء دھونے کی ترتیب فالج اور لقوہ  کی روک تھام کے لیے مفید ہے۔

انسانی جسم میں ناک اور منہ ایسےاعضاء ہیں جن کے ذریعے جراثیم آسانی کے ساتھ جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اس لیے وضو کے دوران کلی کرنے اور ناک کو اندر ہڈی تک گیلا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس کے بعد چہرے کو تین بار دھونے کی تلقین فرمائی ہے تاکہ ٹھنڈا پانی مسلسل آنکھوں پر پڑتا رہے اور آنکھیں جملہ امراض سے محفوظ رہیں۔

اس طرح وضو کی باقی ترتیب میں بھی نہ صرف حسن ہے بلکہ وضو کا ایک ایک رکن ہمیں بے شمار بیماریوں سے نجات دلا رہا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ جدید تحقیق صحت و صفائی کے لحاظ سے جن جن تصورات کواب  واضح کررہی ہے اِسلام نے اُنہیں کب کا وضو میں سمو  دیا ہوا ہے۔

وضو کے طبی و سائنسی فوائد

جدید تحقیق کے مطابق وضو بہت سی خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ وضو سے انسان کا جسم تروتازہ رہتا ہے۔  آج یوگا کے ماہرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ سونے سے قبل اپنے ہاتھ ،منہ ،بازو، پیر اور جنسی اعضا کو ٹھنڈے اور صاف پانی سے دھو لینا چاہیے۔ اس سے دن بھر کی تھکن کا خاتمہ ہوتا ہے، تازگی حاصل ہوتی ہے اور پر سکون نیند آتی ہے ۔

ریفلیکسو تھراپی چینی ماہرین کا وہ علم ہے جس میں وہ انسانی جسم کو پانی کی پھوار کے ذریعے سکون مہیا کرتے  ہیں ۔ اب تحقیقات سے بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ مسلمان جو وضو ہر نماز سے قبل کرتے ہیں اس کے سبب ان کی ریفلیکسو تھراپی ہوتی ہے۔جس سے ان کے اعصاب پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور طب بھی ان تمام عوامل کو ثابت کرتی جا رہی ہےجو اسلام نےآج سے  چودہ سو سال پہلے واضح کر دیئے تھے۔ اسلام کے دیئے ہوئے اصولوں اور احکامات کو اپنانے میں جہاں اخروی فائدہ ہے وہاں بہت سے دنیاوی اور جسمانی فوائد بھی ہیں۔

  1. ہاتھ دھونے کے طبی و سائنسی فوائد

مختلف چیزوں میں ہاتھ ڈالتے رہنے سے ہاتھوں میں مختلف کیمیائی اجزاء اور جراثیم لگ جاتے ہیں۔ اگر سارا دن ہاتھ نہ دھوئے جائیں تو ہاتھ جلدی امراض میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔وضو میں سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جاتے ہیں ۔ جب ہم ہاتھ دھوتے ہیں تو انگلیوں کے پوروں سے شعاعیں نکل کر ایک ایسا حلقہ بناتی ہیں جس سے ہمارا اندرونی برقی نظام متحرک ہوجاتا ہے اور ایک حد تک برقی رو ہمارے ہاتھوں میں سمٹ آتی ہے اس سے ہمارے ہاتھوں میں حسن پیدا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ جلدی سوزش، ایگزیما اور ہاتھوں کی گرمی دانوں سے بھی نجات ملتی ہے۔

پاکستان اور ہندوستان میں نمونیا کا شکار یا تو کم عمر بچے ہوتے ہیں یا پھر بوڑھے افراد ۔ نمونیا کے جراثیم انسانی جسم میں اس کے ہاتھوں سے داخل ہوتے ہیں ۔ اس سے بچاؤ بھی وضو کے ذریعے ممکن ہے، وضو کے دوران ہاتھ دھونے سے نہ صرف صفائی حاصل ہوتی ہے بلکہ نمونیا کے جراثیم سےبھی نجات ملتی ہے۔

  1. وضو کے دوران کلی کرنے کے طبی و سائنسی فوائد

غذا کے ذرات اور ہوا کے ذریعے لاتعداد مہلک جراثیم ہمارے منہ اور دانتوں کے لعاب کے ساتھ چپک جاتے ہیں۔وضو کے دوران ہاتھ دھونے کے بعد صاف ہاتھوں سے صاف پانی کو منہ میں ڈال کر کلی کی جاتی ہے جس سے منہ کے اندر کھانے کے اٹکے ذرات اور جراثیم دھل جاتے ہیں اور اس طرح جراثیم انسانی معدے میں نہیں پہنچ پاتے۔جس کی وجہ سے انسان منہ اور پیٹ کے متعدد امراض سے بچ جاتا ہے۔

وضو میں مسواک اور کلی کے ذریعے منہ کی بہترین صفائی ہوجاتی ہے۔ اگر منہ کو صاف نہ کیا جائے تو متعدد امراض کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔جن میں منہ کا ایڈز، منہ کا پکنا، منہ کے کناروں کا پھٹنا، منہ میں پھپھوندی ، منہ میں چھالے وغیرہ شامل ہیں۔اس کے علاوہ وضو کے دوران کلی کرنے والا گلے کے ٹانسلز سے لے کر گلے کے کیسنر تک بے شمار امراض سے بچ جاتا ہے۔

  1. مسواک کرنے کے سائنسی اور طبی فوائد

مسواک میں بے شمار دینی و دنیاوی فوائد ہیں۔ مسواک میں متعدد کیمیائی اجزاءہوتے  ہیں۔ جو دانتوں کو ہر طرح کی بیماریوں سے بچاتے ہیں۔وضو میں مسواک کرنا سنت ہے۔ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم مسواک کا بے حد اہتمام فرماتے تھے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بھی مسواک کرنے کی تلقین فرمائی۔

ماہرین کی تحقیقات کے مطابق اسی  فیصد امراض معدہ اور دانتوں کی خرابی سے پیدا ہوتے ہیں۔ عموما دانتوں کی صفائی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے مسوڑھوں میں طرح طرح کے جراثیم پرورش پاتے ہیں پھر معدے میں جاتے اور طرح طرح کے امراض کا سبب بنتے ہیں۔مسواک کے استعمال سے قوت حافظہ بڑھتی ہے، درد سر دور ہوتا ہے اور سر کی رگوں کو سکون ملتا ہے۔ اس سے بلغم دور، نظر تیز، معدہ درست اور کھانا جلد ہضم ہوتا ہے، عقل بڑھتی ہے، بڑھاپا دیر میں آتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات گرمی اور معدہ کی تیزابیت سے منہ میں چھالے پڑجاتے ہیں اور اس مرض سے خاص قسم کے جراثیم منہ میں پھیل جاتے ہیں۔ اس لیے منہ میں تازہ مسواک ملیں اور اس کے لعاب کو کچھ دیر تک منہ کے اندرگھماتے رہیں۔اس سے منہ کے چھالے ٹھیک ہو جائیں گے۔

  1. ناک میں پانی ڈالنے کےطبی و  سائنسی فوائد

جدید سائنس نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ ناک میں  پانی ڈالنے کے سبب ہوا اور ماحول میں موجود جراثیم کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس کے سبب بہت ساری مہلک بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے ۔ دائمی نزلہ اور ناک کے زخم کے مریضوں کے لیے ناک میں پانی چڑھانا بے حدمفید ہے۔

ہمارے پھیپھڑوں کو کام کرنے کےلئے جراثیم، دھوئیں اور گرد و غبارسے پاک ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی ہوا جس کا درجہ حرارت 90 فارن ہائیٹ ہو اور اس میں 80 فیصد تری (رطوبت) ہو ۔ ایسی ہوا فراہم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ناک کی نعمت سے نوازا ہے۔ ہوا کو مرطوب یعنی نم بنانے کے لیے ناک روزانہ تقریبا چوتھائی گیلن نمی پیدا کرتی ہے۔ صفائی اور دیگر سخت کام نتھنوں کے بال سرانجام دیتے ہیں۔ ایزی استاد اب رومن اردو میں بھی

ناک کے اندر ایک خوردبینی جھاڑو ہے۔ اس جھاڑو میں  نظر نہ آنے والے روئیں ہوتے ہیں، جو ہوا کے ذریعے داخل ہونے والے جراثیم کو ہلاک کردیتی ہیں۔ وضو کرنے والاجب  ناک میں پانی چڑھاتا ہے تو اس سےنہ صرف ناک کی صفائی ہوتی ہے۔ بلکہ پانی کے اندر کام کرنے والی برقی رو سے ناک کے اندرونی غیر مرئی رووں کی کارکردگی کو بھی تقویت پہنچتی ہے اور وضو کرنے والے ناک کے بے شمار پیچیدہ امراض سے محفوظ رہتا ہے۔

  1. وضو کے دوران چہرہ دھونے  کے طبی و سائنسی فوائد

آج کے زمانے میں چہرے کی خوبصورتی اور ترو تازگی کے لیے ناجانے کیا کیا ڈھونگ اور ٹوٹکے آزمائے جاتے ہیں اور مہنگی مہنگی کریمیں خرید کر استعما ل کی جاتی ہیں تاکہ چہرے کی رونق بحال ہوسکے۔چہرے کوترو تازہ رکھنے کا بہترین حل وضو میں ہے۔ جو شخص وضو کا عادی ہو وہ باقی لوگوں سے زیادہ صحت مند اورخوبصورت جلد کا مالک ہوتا ہے۔اسی لیے نمازیوں کے چہرے باقی لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تروتازہ ہوتے ہیں۔

فضا میں دھوئیں وغیرہ کی آلودگیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ مختلف کیمیائی مادے سیسہ وغیرہ میل کچیل کی شکل میں آنکھوں اور چہرے وغیرہ پر جما رہتا ہے۔ اگر منہ نہ دھویا جائے تو چہرہ اور آنکھیں کئی امراض سے دوچار ہوجائیں گی۔ ایک یورپین ڈاکٹر نے مقالہ لکھا جس کا نام تھا "Eye Water Health” اس میں اس نے اس بات پر زور دیا کہ”اپنی آنکھوں کو دن میں بار بار دھوتے رہو ورنہ تمہیں خطرناک بیماریوں سے دوچار ہونا پڑے گا” دن میں کئی بار چہرہ دھونے سے منہ پر کیل نہیں نکلتے یا کم نکلتے ہیں۔

ماہرین حسن و صحت اس بات پر متفق ہیں کہ کریم اور لوشن کا استعمال چہرے پر داغ چھوڑتے ہیں۔ چہرے کو خوبصورت بنانے کے لیے چہرے کو کئی بار دھونا لازمی ہے۔’’آمریکن کونسل فار بیوٹی‘‘ کی ممبر بیچر نے انکشاف کیا ہے کہ "مسلمانوں کو کسی قسم کے کیمیائی لوشن کی حاجت نہیں وضو سے دھل کر ان کے چہرے کئی بیماریوں سے پاک ہوجاتے ہیں۔”

ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ "چہرے کی الرجی سے بچنے کے لیے اس کو باربار دھونا چاہیے”اور چہرے کو بار بار دھونا صرف وضو کے ذریعے ممکن ہے۔ وضو میں چہرہ دھونے سے چہرے کا  مساج ہوجاتا ہے، خون کا دورہ چہرے کی طرف رواں دواں ہوجاتا ہے، میل کچیل اتر جاتی  ہے اور چہرے کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے۔

وضو سے نہ صرف عام شخص کو بلکہ داڑھی والے حضرات کو بھی بہت فائدہ ہوتا ہے۔ چونکہ داڑھی گھنی اور گنجان ہوتی ہے اس لئے اسکی جڑوں تک پانی پہنچانے کا حکم دیا گیااس سے بالوں کی جڑیں مضبوط ہو جاتی ہیں اور خلال کرنے سے جوؤں کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے نیز داڑھی میں پانی کے ٹھہراؤ سے گردن کے پٹھوں ،تھائی وائیڈ گلینڈ اور گلے کے امراض سے حفاظت ہوتی ہے۔ چہرے کا دھونا جہاں دیگر اعضاءکو فوائد دیتا ہے وہاں پلکوں کے گرنے کے مرض کو بھی ختم کرتا ہے۔ آنکھ کے پپوٹے کے ورم کو بھی ختم کرتاہے۔

اس لیے اگر یہ کیا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ جو خوبصوتی کروڑوں خرچ کر کے واپس نہیں لائی جاسکتی، وہ وضو کے ذریعے مفت میں مل جاتی ہے۔اس لیے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر وقت با وضو رہنے کی بہت زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے۔

  1. وضو کے دوران کہنیاں دھونے  کے سائنسی فوائد

کہنی پر تین بڑی رگیں ہوتی ہیں جن کا تعلق بالواسطہ دل، جگر اور دماغ سے ہوتا ہے ۔کہنیاں زیادہ تر ڈھکی رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں ہوا اور پانی کی فراہمی نہ ہونے کی  وجہ سے متعدد دماغی اور اعصابی امراض پیدا ہوسکتے ہیں۔وضو کے دوران کہنیوں تک ہاتھ دھونے سے نہ صرف جسمانی بیماریوں میں افاقہ ہوتا ہے بلکہ نفسیاتی بیماریوں مثلا ذہن میں ناپاک خیالات کا اجتماع، ناامیدی، ذہنی کمزوری، بے جا خوف وغیرہ  میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی ہے ۔ اور ہاتھ کہنیوں تک دھونے سے ہاتھوں کے عضلات پاک مضبوط اور طاقتور بن جاتے ہیں

دل، جگر اور جلدی بیماریوں کے رفع کرنے اور "تصفیہ خون” کے لیے”نہرالبدن” کا خون نکالنا تجویز کیا جاتا ہے اور کہنی کے برابر اسی رگ پر نشتر لگا کر خون نکالا کرتے ہیں۔نہرالبدن کا  تعلق دل و جگر کے ساتھ ساتھ سارے بدن سے ہوتا ہے ۔وضو کے دوران ہاتھوں کا کہنیوں تک دھونا اس لیے مقرر ہوا کہ اس بنیادی رگ نہر البدن کے ذریعے پانی کے مثبت اثرات پورے بدن میں نفوذ کرجائیں۔

  1. دوران وضو سر اور گردن کا مسح کرنے کے سائنسی فوائد

سر انسان کے تمام اعضاء سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے تمام اعضاکے ا فعال کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے وضو کے دوران سر اور گردن کا مسح کرنے کی بے شمار حکمتیں اور فوائد ہیں۔ سر اور گردن کے درمیان ’’حبل الورید‘‘واقع ہوتی ہے۔جسے شہ رگ بھی کہا جاتا ہے۔  اس کا تعلق ریڑھ کی ہڈی اور حرام مغز سےکے علاوہ جسم کے تمام تر جوڑوں سے ہوتا ہے۔

جب وضو کرنے والا گردن کا مسح کرتا ہے تو ہاتھوں کے ذریعے برقی رو نکل کر شہ رگ میں ذخیرہ ہوجاتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی سے ہوتی ہوئی جسم کے تمام اعصابی نظام میں پھیل جاتی ہے اور اس سے اعصابی نظام کو توانائی حاصل ہوتی ہے۔ روزانہ گردن کا مسح کرنے سے ریڑھ کی ہڈی اور حرام مغز کی خرابی سے پیدا ہونے والے امراض سے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

ایک سائنسی تحقیق کے مطابق اگر انسان کی گردن کی پشت کو خشک رکھا جائے تو اس میں موجود رگوں میں خشکی پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔جس کے نتیجے میں نہ صرف انسان کا دماغ کام کرنا چھوڑدیتا ہے بلکہ انسان پاگل بھی ہو سکتا ہے۔سر کا مسح کرنے سے نیند کی کمی، چکراور زکام وغیرہ کی تکالیف میں کمی آتی اور بینائی بھی تیز ہو جاتی ہے ۔دماغی ٹھنڈک سے سکون محسوس ہوتا ہے۔

  1. وضو کے دوران پاؤں دھونے کے سائنسی فوائد

انسانی جسم میں سب سے زیادہ گرد و غبار اور دھول مٹی سے آلودہونے والی چیز پاؤں ہیں۔انفیکشن سب سے پہلے پاؤں کے انگلیوں کے درمیانے حصےمیں شروع ہوتا ہے۔ اور شوگر کے مریضوں کو پاؤں کی انفیکشن زیادہ ہوتی ہے۔پیر کے تلوؤں کا ہتھیلیوں کی طرح تمام اعصاب خاص طورپر تمام غدود سے تعلق رہتا ہے جس کی وجہ بھوک کی کمی ،تیز بخار ،عرق النساء، اسہال، نکسیر، یرقان، گنٹھیا،بواسیر،چکر،جنسی کمزوری،قبض، دم پھولنا،سے آرام رہتا ہے۔

اچھی صحت کا راز آپ کے پاؤں میں پوشیدہ ہے۔ وضو میں پاؤں دھونے سے گرد و غبار اور جراثیم بہہ جاتے ہیں اور بچے کھچے جراثیم پاؤں کی انگلیوں کے خلال سے نکل جاتے ہیں جس سے نیند کی کمی، دماغی خشکی،ڈپریشن، بے چینی، گھبراہٹ اور مایوسی جیسے پریشان کن امراض دور ہوتے ہیں۔

وضو کے ذریعے مایوسی اور ڈپریشن کا خاتمہ

مایوسی اور ڈپریشن ایسے امراض ہیں جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر کے پاگل خانے تک پہنچا کر دم لیتے ہیں۔ اور بعض حالات میں تو یہ انسانی جان لے کر بھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اسی لیے مایوسی کو گناہ قرار دیا گیا ہے۔ مغربی ممالک میں یہ مرض اتنی تیزی سے پھیل رہا ہےکہ وہاں پاگل خانے کم پڑتے جا رہے ہیں۔ اور ان امراض کی ماہرین کی موجیں لگی ہوئی ہیں۔کیونکہ ان کا کاروبار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں میں یہ مرض بہت کم پایا جاتا ہے ۔ کامیابی کا راز

اسی بات کو جانچنے کے لئے مغربی ممالک کے ڈاکٹروں نےایک سیمینار کا اہتمام کیا جس کا موضوع تھا۔ "مایوسی ، ڈپریشن کا علاج دواؤں کے علاوہ کن کن طریقوں سے ممکن ہے”ایک ڈاکٹر نے اپنے مقالے میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ میں نے ڈپریشن کے چند مریضوں کے روزانہ پانچ بار ہاتھ، منہ اور پاؤں  دھلائے  تو ان کی یہ بیماری ختم ہوگئی۔

یہی ڈاکٹر اپنے مقالے میں اعتراف کرتا ہے کہ مسلمانوں میں مایوسی کا مرض کم پایا جاتا ہے کیوں کہ وہ دن میں کئی مرتبہ ہاتھ منہ اور پاؤں دھوتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف نمازوں سے قبل بلکہ ہر وقت باوضو رہنے کا حکم دیا ہے

شریانوں کی ورزش کا بہترین طریقہ وضو میں ہے۔

انسانی جسم میں دل کا کام دل سے صاف خون لے کر جسم کے ہر ہر خلیے تک پہچانا اور وہاں سے گندہ خون واپس دل تک پہچانا ہوتا ہے۔ اس عمل کو سائنسی زبان میں ڈائیسٹالک کہتے ہیں ۔اگر ایک با ر یہ دو طرفہ نظام درہم برہم ہو جائے تو خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اس عمل کے نتیجے میں انسان کی عمر میں کمی اورموت کا وقت قریب سے قریب تر ہو جاتا ہے۔

تازہ خون لے جانے اور استعمال شدہ خون واپس لانے کا کام خون کی شریانیں کرتی ہیں ۔یہ لچکدار ہوتی ہیں اوردل سے نکل کر سارے جسم میں پھیلی ہوتی ہیں۔جیسے جیسے ان کادل سے  فاصلہ بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے یہ پتلی ہوتی جاتی ہیں ۔اگر یہ باریک نسیں سخت ہوکر اپنی لچک کم کر دیں نتیجے میں دل پر دباؤبڑھ جاتاہے ۔یہ عمل شریانوں کا سخت ہونا کہلاتا ہے۔

پانی ایک ایسی چیز ہے جو خون کی نالیوں کو پھیلنے اور سکڑنے کی ورزش کروا کر ان کی لچک برقرار رکھتی ہے۔گرم پانی دل سے دور خون کی نالیوں کوکھول کر یا چوڑا کرکے لچک مہیا کرتا ہے اور ٹھنڈا پانی ان کو سکڑنے کے عمل سے گزارتا ہے۔اس ورزش کے نتیجے میں وہ غذائی مادے جو نسوں میں خون کی سست گردش سے جم جاتے ہیں وہ دوبارہ خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔اس عمل سے خون کا دورانیہ مناسب رہتا ہے اور انسان مکمل صحت مند رہتا ہے۔اور اس ورزش کا بہترین طریقہ وضو ہے۔وضو کے دوران جسم کے ہر اعضاء پر ٹھنڈے اور گرم پانی کے بہاؤ سے شریانوں کی کارکردگی بہتر رہتی ہے۔وضو کی برکات سب سے زیادہ اس شخص کی صحت پر نظر آتی ہیں جو بچپن سے اس کا عادی ہو ۔

وضو سے سفید خلیوں کا نظام  بہتر ہوتا ہے

انسانی جسم میں خون کے خلیے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک سرخ اور دوسرے سفید۔جب بھی کوئی خطرناک جراثیم انسانی جسم پر حملہ آور ہوتا ہے تو جسم میں موجود سفید خلیے اسے تباہ کر دیتے ہیں۔ انسان میں بیماریاں اس وقت عام ہوتی ہیں ۔جب سفید خلیوں کا نظام کمزور ہو کر سکڑ جاتا ہے ۔یہ نظام سائنسی اصطلاح میں لیکو سائٹس کہلاتا ہے۔اگر یہ نظام زیادہ سکڑ جائے تو جسم کے جن حصوں تک اس کی پہنچ نہ ہو ان پر بیماریا ں حملہ آور ہو جاتی ہیں ۔یہ نظام بھی وضو کے ذریعے متحرک رہتا ہے اور تقویت پاتا رہتاہے۔جس سے انسانی جسم کا دفاعی نظام بیماریوں کا اچھی طرح مقابلہ کرتا ہے۔

نوٹ: وضو کے طبی و سائنسی کمالات کی فہرست لامتناہی ہے۔ جن کا احاطہ کرنا انسان کے بس کے بات نہیں ہے۔ اس لیےاس  تحریر میں اگر کوئی غلطی نظر آئے تو بندہ بشر سمجھتے ہوئے معاف کر دیجیے گا۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

آخر میں یہی دعا ہے ﷲرب العزت ہم سب کو  دین کی سمجھ عطا فرماتے ہوئے پابندی کےساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمارے ملک کو اندرونی و بیرونی سازشوں سے محفوظ فرمائے،آمین ثم آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں