خوشی اور مسکراہٹ اچھی صحت کے لیے ضروری ہیں

خوشی کی تعریف:

کسی شے یا مقصد کے حصول کے بعد ذہن انسانی میں جو طمانیت اور عجیب و غریب گدگدی سی ہوتی ہے وہ خوشی کہلاتی ہے

باالفاظ دیگر خوشی اس احساس کا نام ہے جس میں ہم اطمینان، تشفی، تسلی، پیار اور فرحت و مسرت کی کیفیت محسوس کریں۔مسکراہٹ ہر حال میں موڈ پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ ڈارون نے کہا تھا کہ

چہرے کے تاثرات میں تبدیلی جذباتی تناؤ کو تبدیل کردیتی ہے اس لیے مسکراہٹ نہ صرف مزاج پر اثرانداز ہوتی ہے بلکہ اسے خوشگوار بھی بنادیتی ہے۔ اب چاہے کتنا بھی غصہ یا مشکل حالات کیوں نہ ہوں، صرف مسکراہٹ کے ذریعے اپنے مزاج کو بہتر بنانا جا سکتا ہے۔

خوشی کے محرکات

انسانی تجربہ ہے کہ خوشی اپنے اظہار کے لیے کچھ جسمانی حرکات بھی کرواتی ہے۔ جنہیں ہم تبسم ہنسی و قہقہہ وغیرہ کا نام دیتے ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ خوشی اور مسکراہٹ (ہنسی، قہقہہ) ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ انسان جب خوش ہوتا ہے، ہنستا یا قہقہے لگاتا ہے تو اس وقت لازماً اس کا غم دور ہوتا ہے۔ اور غم کا دور ہونا خوشی کی علامت ہے۔

مسکراہٹ ایک ایسی مفت اورآسان چیز ہے جو ہر وقت ہر  شخص کے پاس دستیاب ہوتی ہے۔ بس ہونٹوں کو ہلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسکراہٹ کا تعلق دراصل پورے جسم سے ہے۔ یعنی مسکراہٹ صرف خوشی کا احساس ہی پیدا نہیں کرتی بلکہ مختلف اعضاء کو بھی مثبت انداز سے متاثر کرتی ہے۔ جب ہم مسکراتے ہیں تو پندرہ چھوٹے چھوٹے عضلات ہمارے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

صحت کا راز

عضلات کی ورزش کے ساتھ ساتھ خون کا بہاؤ بھی بڑھ جاتا ہے، جو چہرے کو ہلکی سرخی اورچمک بخشتا ہے۔ مسکراہٹ زوردار ہو تو آنسو چھلک پڑتے ہیں اور یاد رکھیئے آنسو خوشی کے ہوں یا غم کے، ان سے دباؤ میں کمی ضرور واقع ہوتی ہے۔

تحقیق

جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ہنسنا مسکرانا پیچیدہ امراض سے محفوظ رکھتا ہے، وہ اس طرح کہ اس عمل سے انسانی جسم میں موجود بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام مظبوط ہو جاتا ہے۔ اضطراب اور بے چینی کو اپنے اوپر حاوی کر لینے والے افراد جلد ہی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جبکہ زندہ دل اور روشن خیال افراد صحت مند اور بہترین دماغوں کے مالک ہوتے ہیں۔

اب تو تحقیقات سے یہ پوری طرح ثابت بھی ہو گیا ہے کہ مسکرانے سے انسان کی قوت مدافعت کا نظام  متحرک اور طاقتور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس حقیقت کے سامنے آنے کے بعد ایک نئی سائنس نے جنم لیا ہے، جسے Psycho Neuro Immunology کہتے ہیں۔ جس نے پوری طرح ثابت کیا ہے کہ لوگ اپنی ذہنی حالت کے مطابق یا تو زیادہ بیمار رہنے لگتے ہیں یا بیماری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

صحت اور مسکراہٹ کا باہمی تعلق

گزشتہ چند برسوں کے دوران کچھ سائنسدانوں نے باقاعدہ طور پر یہ تحقیق شروع کی کہ ہنسنے مسکرانے سے ہماری جسمانی اور ذہنی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی وجوہات کیا ہیں۔ مغربی ممالک میں ورکشاپس کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، سیمنارز اور کانفرنسیں منعقد ہونے لگیں۔ تربیتی کورس کے پروگرام شروع کر دیئے۔

سائنس دان اس بارے میں کس قدر سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ برطانیہ میں Laughter Clinics بھی قائم ہو چکے ہیں۔ جن کے اخراجات اکثر واہاں کی نیشنل ہیلتھ سروس برداشت کرتی ہیں۔ ان کلینکس میں 2015 تک چالیس ہزار سے زائد معالجوں، نرسوں اور ماہرین نفسیات نے ورکشاپس میں شرکت کی ہے ۔ پچھلے دنوں ڈھائی سو ماہرین نفسیات اور معالجوں نے اس موضوع پر غور کیا۔

اچھی صحت کا راز آپ کے پاؤں میں پوشیدہ ہے

ایک ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ اسے شواہد موجود ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جسمانی اور ذہنی صحت اور مسکراہٹ کے باہمی تعلق کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ اب تک تحقیق سے جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ حوصلہ افزاء ہیں۔

مسکراہٹ کے طبی فوائد

مسکراہٹ سے دل کی کئی رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔اور اس سے دل تروتازہ رہتا ہے اور وہ مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر امید کی روشنی میں آجاتا ہے ،نا گوار سے ناگواربات کا اثر مسکراہٹ کے ذریعےکم یا ختم کیا جا سکتا ہے۔ مسکراہٹ دل کو مکمل طور پر ہلکا کر دیتی ہے۔دماغ کے جن حصوں میں مطلوبہ مقدار میں خون نہیں پہنچ پاتا ،وہاں وہ اچھی مقدار میں پہنچ جاتا ہے ۔ مسکراہٹ ذہن پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ ذہن کو متحرک کرنے اور نا امیدی پیدا کرنے والے خیالات کو دور کرنے کا کام دیتی ہے ،جس کے نتیجہ میں آدمی ایک انوکھی بشاشت اور خوشی محسوس کرتا ہے

حاملہ خواتین دوران حمل کون سی غذا استعمال کریں، مکمل تفصیل

ہنسی یا مسکراہٹ کا مثبت اثر اس نظام پر بھی پڑتا ہے، جو ہماری آواز یا گویائی کا نظام ہے۔ ڈایا فرم کی حرکت، پھیپھڑوں میں ہوا بھرنا، نکلنااور ہنسنا یا مسکرانا، ان سب کے لیے یعنی اس پورے نظام صوت کے لیے ایک طرح کی ورزش ہے۔ زور دار ہنسی کے باعث پھیپھڑوں میں معمول کی نسبت زیادہ ہوا آتی اور جاتی ہے، لہذا خون کو زیادہ اکسیجن ملتی ہے۔

جب ہم مسکراتے ہیں تو ہمارے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں کچھ دیر کےلیے اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی مطالعے میں میری لینڈ یونیورسٹی کے ایک ماہر امراض قلب نے رگوں کی اندرونی سطح پر مسکراہٹ کے اثرات کا جائزہ لیا اور یہ پتہ چلایا کہ جب رگیں پھیلتی ہیں تو ان میں اچھے یا مفید صحت کیمیکل پیدا ہوتے ہیں۔

اس ماہر کا کہنا ہے کہ مسکراہٹ ، خوشی اور مزاح سے لطف اندوز ہوتے وقت رگوں کی اندرونی سطح کے پھیلنے سے نائٹرک اکسائیڈ جیسے کیمیکلز پیدا ہوئے جو Clots بننے اور سوزش پیدا ہونے کی مزاحمت کرتے ہیں، جب کہ آزادگی اور افسردگی کے باعث اس سطح کے سکڑنے سے کورٹیزول جسے ہارمون پیدا ہوئے جو دباؤ والے ہارمون ہیں۔ یہ صورتحال بعد میں امراض قلب کا باعث بنتی ہے۔

مسکراہٹ کے ذریعے مختلف امراض کا خاتمہ

برطانیہ کی ایک تجربہ گاہ جسے Laugh Lab کا نام دیا گیا ہےمیں کچھ لوگوں پر تجربہ کرنے اور ان کے دماغ کی تصویریں لینے کے بعد دیکھا گیا کہ کوئی مزیدار بات سننے مسکرانے یا ہنسنے کے بعد دماغ کے ان حصوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے جن کا تعلق فرحت پیدا کرنے والے کیمیکلز سے ہے۔

سائنسدانوں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ مسکرانے اور خوش رہنے سے دل کی دھڑکن میں دس سے بیس فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ اور ایک منٹ میں ایک عشاریہ تین حرارے جل جاتے ہیں۔ اندازہ یہ ہے کہ جوگنگ کرنے سے ایک منٹ میں دس حرارے جلتے ہیں۔ لہذا آپ کہیں گے کہ اس کے مقابلے میں ایک اعشاریہ تین حرارے کی اپنی اہمیت ہے اور ہمیں ان تھوڑے تھوڑے حراروں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اگر آپ روزانہ پندرہ منٹ دل کھول کر ہنس یا مسکرا لیں اور یہ سلسلہ سال بھر جاری رہے تو آپ کا وزن چار پونڈ کم ہو سکتا ہے۔

اچھی صحت کا راز وضو میں ہے، جانیے کیسے

زیادہ خوش ہو کر قہقہہ لگانے میں تواتر کے ساتھ ہا ہا ہا کی آواز نا صرف منہ کے عضلات پر اچھا اثر ڈالتی ہے ، بلکہ کیلیفورنیا کےایک سائنسدان نے اس کا ایک اور دلچسپ فائدہ بھی بتایا ۔ انہوں نے ہنسی اور قہقہوں کے بعد کچھ لوگوں کے تھوک کا معائنہ کیا اور یہ دیکھا کہ اس میں بیماری کا مقابلہ کرنے والے کیمیکل Immunoglobulinکی سطح بڑھ گئی ہے۔ کچھ اور تجربوں سے پتہ چلا کہ ہنسنے مسکرانے کے بعد خون میں ایسے خلیوں کی سطح بڑھ گئی جو ہمارے مدافعتی عمل کو تقویت پہنچاتے ہیں۔

درد دور کرنے والی دوا

مسکراہٹ کا ایک اور فائدہ بھی ہے کہ یہ درد دور کرنے والی دوا کا اثر رکھتی ہے اور جسم میں درد کی برداشت بڑھاتی ہے۔ 1987 میں یہ نتیجہ ٹیکساس کے ایک ماہر نفسیات نے اپنے تجربے کے بعد نکالا۔ اکثر ماہرین ہنسی قہقہے اور مسکراہٹ کو ایک ورزش قرار دیتے ہیں۔

ایک ماہر نے تو اسے اندرونی ایروبک ورزش کا نام دیا۔ یہ ان ضعیف یا بیمار لوگوں کے لیے اچھی خبر ہے جو ورزش کے لیے باہر نہیں نکل سکتے۔ ایک ماہر نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ وہ مشین پر ورزش کر کے دس منٹ میں اپنے دل کی دھڑکن میں جو اضافہ محسوس کرتا ہے وہ کچھ دل دل کھول کر ہنسنے مسکرانے سے بھی حاصل ہو جاتاہے۔

باہمی تعلق

مسکراہٹ سے دوسروں کے دلوں کا جیتا جا سکتا ہے۔ جو لوگ زیادہ ہنستے مسکراتے ہیں ان کی شادیاں بھی زیادہ کامیاب ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ زیادہ مسکرانے والے لوگ زیادہ پرامید، خوش باش اور جذباتی طور پر مستحکم بھی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے لوگوں کے بارے میں دوسرے اچھی رائے رکھتے ہیں، نیز زیادہ مسکرانے والوں کی زندگی بھی لمبی ہوتی ہے۔

اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ متذکرہ بالا تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں