نوجوانوں میں ڈپریشن کی وجوہات ، ڈپریشن سے نجات کے طریقے

ماہرین نفسیات کی ایک حالیہ ریسرچ کے مطابق نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں ڈپریشن اور ذہنی امراض کی شرح بڑھ رہی ہے۔ کیونکہ پندرہ سال سے پچیس سال انسانی زندگی کا مشکل اور حساس ترین دور ہوتا ہے۔اور یہ وہ دور ہوتا ہے جب بہت سے لوگ ایسی عادات اور رویے اپناتے ہیں جو عمر بھر ان کے ساتھ رہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں انسان میں جو خوبیاں، خامیاں ، رویےیا عادات و اطوار شخصیت کا حصہ بنتی ہیں ان کو آئندہ زندگی میں بدلنا یا تبدیل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، یہی وجہ ہوتی ہے کہ اس عمر کے خوف، ڈر، تجسس  اور ڈپریشن سے چھٹکارہ پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ڈپریشن صرف بزرگ لوگوں میں پایا جاتا ہے تو آپ بالکل غلط ہیں کیونکہ جتنا ڈپریشن آج کل کی نوجوان نسل میں پایا جاتا ہے شاید ہی کسی بزرگ میں اتنا ڈپریشن پایا جاتا ہو۔

ڈپریشن ایک ایسی خطرناک بیماری ہوتی ہے کہ جس سے انسان ہر چیز سے بے زار ہو جاتا ہے، کسی کام میں دل نہیں لگتا، کسی سے ملنے کی چاہت نہیں ہوتی، یہاں تک کہ اپنے عزیز دوستوں ، رشتے داروں اور گھر والوں سے بھی اکتاہٹ ہونے لگتی ہے۔نہ پڑھائی میں دل لگتا ہے نہ روزمرہ کے کام کاج میں، نہ اپنی صحت و تندرستی کی فکر ہوتی ہے۔ اور نہ ہی کھانے پینے کا ہوش ہوتا ہے۔

اس تحریر میں ہم صرف نوجوانوں میں ڈپریشن کی وجوہات اور اس کے تدارک کے بارے میں بات کریں گے۔تاہم اگر آپ ڈپریشن کی علامات، وجوہات اور علاج سے متعلق مکمل اور جامع معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہماری تحریر ڈپریشن کیا ہے، ڈپریشن کی بیماری، اس کی علامات، وجوہات اور علاج پڑھ سکتے ہیں۔

 نوجوان نسل میں ڈپریشن کی وجوہات

  • ہماری نوجوان نسل شدید قسم کی ڈپریشن اور بے چینی کا شکار ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی ہے۔ ایک عام اور سادہ ذہن کا نوجوان جب کچھ لوگوں کو معاشی اور سماجی اعتبار سے ترقی کی معراج پر دیکھتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے پاس اتنی ساری دولت کہاں سے آ گئی؟
  • ہماری نوجوان نسل کے وہ افراد جوبی اے، ایم اے، ایم فل، پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ایسا کوئی ذریعہ ڈھونڈ نہیں پاتے کہ جس کی وجہ سے جلد از جلد وہ بھی ان A کلاس افراد کا مقابلہ کر سکیں تو نتیجتاً وہ مایوس ہو کر ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اگر مایوسی انتہا کو پہنچ جائے تو پھر بعض نوجوانوں کو ابنارمل کر دیتی ہے۔ ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق دنیا کی آبادی کا 15 فیصد نوجوان نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔
  • دوران تعلیم ہر جگہ یہی پڑھایا اور بتایا جاتا ہےکہ ہمیشہ انصاف کا ہی بول بالا ہوتا ہے، سب لوگ برابر ہیں، کوئی بڑا چھوٹا نہیں، استحصال کرنے والے ظالم ہیں، چور بازاری لعنت ہے اور اس میں شریک ہونے والا غدار ہے۔ لیکن جب وہی نوجوان عملی میدان میں آ کر اپنے ارد گرد دیکھتا ہے تو اسے سب باتیں محض زبانی دعوے نظر آتی ہیں۔جس کی وجہ سے نوجوان مایوس ہو کر ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور بعض اوقات تو اس کھلے تضاد کی بدولت کچھ نوجوان تعلیم ادھوری چھوڑ کر ہی بھاگ جاتے ہیں۔
  • نوجوانوں میں ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ ماہرین نے سوشل میڈیا کو قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آج کل ہر دوسرا نوجوان اپنا موبائل فون استعمال کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔چاہے وہ فیملی کے ساتھ ہوں، دوستوں کے ساتھ ہوں یا پھر کہیں اکیلے ہی بیٹھے ہوں۔ حد سے زیادہ سوشل یا موبائل فون کا استعمال نوجوانوں میں ڈپریشن پیدا کر رہا ہے جوکہ ایک خطرناک بات ہے۔
  • موبائل فون ایک ضرورت زندگی ہے ۔ لیکن یہ ضرورت زندگی نوجوانوں کی زندگی پر بہت اثر انداز ہو رہی ہے۔آج کل کے نوجوان سارا دن موبائل فون استعمال کرنے کے باعث اصل زندگی کی خوبصورتی کو بھول گئے ہیں۔سارا سارا دن کمرے میں رہنا حتیٰ کہ بعض اوقات نوجوان کھانا بھی کمرے میں ہی کھالیتے ہیں اور اپنے گھروالوں کے ساتھ بیٹھنے کی بھی زہمت نہیں کرتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں تیزی سے ڈپریشن بڑھنے کی وجہ کم عمری میں ان کو موبائل فون فراہم کر دینا بھی ہے۔اس کے علاوہ ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ موبائل کے زیادہ استعمال سے نہ صرف نوجوانوں میں چڑچڑا پن پیدا ہوتا ہے بلکہ ان کی صحت بھی دن بدن گرتی جاتی ہے۔
  • ٹیلی ویژن معلومات اور تفریح کے ایک اہم ذریعے کے طورپر اربوں لوگوں کی زندگیوں کا لازمی حصہ بن چکاہے۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ بہت زیادہ ٹی وی دیکھنے سے نوجوانوں میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ رہاہے۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو روزانہ اوسط ًدوگھنٹے یا اس سے زیادہ ٹیلی وژن دیکھتے ہیں۔ان میں ڈپریشن ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ پانچ فیصد بڑھتا جاتا ہے۔
  • بہت سے نوجوان انٹرنیٹ اتنا زیادہ استعمال کرتے ہیں کہ انہیں اس کی نشے کی طرح عادت ہو جاتی ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق تقریبا ہروقت آن لائن رہنے والے ایسے نوجوانوں میں ڈپریشن کا شکار ہو جانے کا خطرہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ آج کے دور میں انٹرنیٹ نوجونوں میں اتنا مقبول ہے کہ ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور غریب ریاستوں تک میں نوجوان نسل کو نیٹ جنریشن کہا جاتا ہے۔ماہرین نے اس کی وضاحت یوں کی کہ ہر وقت آن لائن رہنے کے خواہش مند نوجوانوں کو اکثر ان کے سماجی اور خاندانی رشتوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایسے افراد کی صحت بھی خراب رہنے لگتی ہے۔ ان کا رویہ جارحانہ ہو جاتا ہے اور ان میں کئی دیگر نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس سروے کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا کہ ایسے نوجوان بالعموم بےچین رہنے لگتے ہیں۔
  • اگر ایک شخص حد سے زیادہ ذہنی دباؤ کا شکا‌ر رہتا ہے تو یہ اس کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‏ چونکہ ایک نوجوان کے ہارمونز میں تبدیلیاں ہو رہی ہوتی ہیں اِس لیے حد سے زیادہ ذہنی دباؤ اُسے آسانی سے ڈپریشن میں مبتلا کر سکتا ہے۔
  • دل لگا کر تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں نے اپنا تعلیمی دور خوابوں کی نگرای میں ریاضت کر کے گزارا ہوتا ہے اور انہیں امید ہوتی ہے کہ ادھر ان کی تعلیم ختم ہو گی تو انہیں کوئی اچھی ملازمت مل جائے گی، مگر اقربا پروری، ملازمتوں کے فقدان ، طبقاتی استحصال، سرخ فیتے، رشوت اور سفارش کلچر کی وجہ سے انہیں مایوسی ہوتی ہے۔اس کا نتیجہ دو صورتوں میں نکلتا ہے۔
  1. یا تو وہ نوجوان معاشرے سے ناراض ہو جاتا ہےاور اپنی تمام محرومیوں کا ذمہ دار معاشرے کو سمجھتے ہوئے انتقام پر اتر آتا ہے۔ اور جرائم کی راہ پر چل پڑتا ہے ۔ایسے میں وہ ڈاکہ زنی سے لے کر خودکش دھماکوں تک کسی بھی چیز سے باز نہیں آتا۔
  2. یا پھر وہ نوجوان مایوس ہو کر ڈپریشن کا مریض بن کے الگ تھلگ بیٹھ جاتا ہے۔ یوں معاشرہ اور ملک اس کی صلاحیتوں سے یکسر محروم ہو جاتے ہیں۔ اس کی انتہائی شکل اقدام خودکشی ہے۔

ڈپریشن کا خاتمہ

  • ضرورت اس امر کی ہے کہ اقربا پروری ختم ہو، ملازمتیں عام ہوں، رشوت ، سفارش کا خاتمہ ہو، تب نوجوانوں کے اندر تحفظ کا احساس ہو گا اور وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ تمام نوجوانوں کو ان کی اہلیت کے مطابق ملازمتیں ملیں گی تو وہ ذوق و شوق سے اپنے فرائض کی ادائیگی کریں گے۔ اور یوں، ترقی کا عمل تیز ہو گا۔
  • ایسے نوجوان افرادجو کسی ایک سرگرمی میں روزانہ بہت سا وقت صرف کرتے ہیں ۔ایسے افراد دوسری تعمیری سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے۔جس کی وجہ وے وہ کچھ عرصے بعد ہی بور ہو کر ڈپریشن کا شکار بن جاتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے افراد کو چاہے کہ وہ اپنا وقت مثبت سماجی تعلقات بنانے، کھیلوں میں حصہ لینے، موسیقی سننے اور دوسری ایسی سرگرمیوں میں گزاریں۔ تاکہ وہ ڈپریشن سے دور رہ سکیں۔
  • نوجوان نسل میں ڈپریشن کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ کچھ شک نہیں کہ اس نظام کی بدولت ہم زندگی کی نت نئی آسائشات سے ہمکنار ہوئے ہیں، لیکن یہ چونکہ استحصالی معاشرے کی پیداوار ہے اور بہت جلد طبقاتی فاصلے پیدا کرتا ہے، اس لیے اس کے مضمرات سے آگاہی لازم ہے۔
  • نوجوانوں کو خالصتاً اخلاقی اور رضا کارانہ بنیادوں پر تیار کیا جائے اور ان کو بتایا جائے کہ ان کے مسائل صرف روپے پیسے سے حل نہیں ہوں گے بلکہ اس وقت حل ہوں گے جب وہ اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن پورا کریں گے۔
  • قومی اور اجتماعی سطح پر نوجوانوں کو حقوق و فرائض کی تعلیم دی جائے۔نوجوان نسل کو پتا ہو کہ ان کے حقوق کیا ہیں اور ان کو کیسے حاصل کرنا ہے، نیز ان پر کون سے فرائض اور پابندیاں ہیں جن پر ان کو پورا اترنا ہے۔
  • ڈپریشن سے نجات حاصل کرنے کے لیے ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ والدین بچوں کو زیادہ سے زیادہ ٹائم دیں اور ان کو دوسری سرگرمیوں میں مبتلا رکھیں، جیسے کتابوں کا مطالعہ ،کھیلوں میں شمولیت، وغیرہ ۔اس سے بچوں کا دماغ بٹے رہے گا اور وہ دوسری بری چیزوں کی جانب راغب نہیں ہوں گے۔
  • نوجوان طبقے کو بتایا جائے کہ صرف وہی اس سماجی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اور یہ کام ان کے کندھوں پر ہے کہ وہ دوسرے لوگوں میں بھی شعور اور اگاہی بیدار کریں۔

ڈپریشن سے پاک معاشرہ

معاشرتی آسودگی دماغی سکون کا باعث بنتی ہے۔ جب معاشرہ صحیح نہج پر کام کر رہا ہو تو افراد ذہنی طور پر مطمئن رہتے ہیں۔ افراد کا ذہنی طور پر مطمئن ہونا ہی انہیں اس قابل بناتا ہے کہ وہ فعال شہریوں کے طور پر زندگی بسر کریں۔

ہمارے ملک کا نوجوان طبقہ ہی اس کے مستقل کا امین اور اس کی نظریاتی و زمینی سرحدوں کا محافظ ہے۔ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور اضطراب کی کیفیت کو روکنا معاشرے کے دوسرے اراکین کی اولین ذمہ داری اور بنیادی فرض ہے، اگر یہ اضطراب کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مستقبل میں ملک کو مایوس نسل تحفے میں ملے گی۔ جو مایوسی کے ساتھ ساتھ جذبہ انتقام بھی رکھتی ہو گی۔

اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیاپر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں