فالج کیا ہے، فالج کی علامات و وجوہات | فالج سے بچاؤ کا دیسی علاج

فالج سے مراد ایسی بیماری ہے جس میں انسان کے جسم کا کوئی عضو یا حصہ بے حس اور سُن ہو جائے۔ ویسے تو فالج جسم کے کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے حصے میں ہو سکتا ہے لیکں عموماً یہ بازو، ٹانگ اور زبان کو متاثر کرتا ہے۔

فالج کے مختلف درجات ہوتے ہیں۔ چھوٹی قسم کا فالج عارضی بھی ہو سکتا ہے اور چند لمحوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر فالج کا حملہ چند منٹوں میں ٹھیک نہ ہو تو اس کے ثمرات طویل عرصے تک رہ سکتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ اموات دل کی بیماریوں پھر کینسر اور پھر فالج سے ہوتی ہیں۔ اس سلسلہ میں قابل تشویش بات یہ ہے کہ پہلے 70 سال سے زیادہ عمر کے لوگ فالج سے متاثر ہوتے تھے لیکن آج بیس سے تیس سال کی عمر کے افراد پر بھی فالج کا حملہ ہو رہا ہے۔

کچھ بیماریاں اور انسانی عادات اور خاصیتیں ایسی ہیں جن کی موجودگی میں فالج کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے افراد جن کا وزن زیادہ ہو۔ وہ جسمانی مشقت یا ورزش نہ کرتے ہوں، سیگریٹ، تمباکونوشی کرتے ہوئے نمک مرچ زیادہ استعمال کریں، تیز اور غصیلے مزاج کے حامل ہوں تو ایسے لوگوں کو فالج کے حملے کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

اس طرح سردیوں کے موسم میں خون کی شریانوں میں بندش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں بھی اگر انسانی جسم میں پانی کی کمی واقع ہو جائے تو پانی کی کمی سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور فالج کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کو شوگر ، بلڈپریشر، دل کی بیماری یا کولیسٹرول زیادہ ہو، ان کی وقت کے ساتھ ساتھ خون کی نالیاں سخت ہو جاتی ہیں اور ان کے پھٹ جانے یا بند ہو جانے سے بھی فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔

فالج کی بیماری دماغ یا گردن کی شریانوں کے متاثر ہونے سے ہوتی ہے یا تو دماغ کوخون فراہم کرنے والی نالی میں لوتھڑا بننے کے بعد دماغ کی شریان تک پہنچ کر اسے بند کر دیتا ہے۔

تیسری قسم کے فالج میں دماغ کے اندر خون کی نالی پھٹ جاتی ہے ۔ دماغ کا وہ حصہ جس میں فالج ہو، ایک ملی میٹر سے چھوٹا بھی ہو سکتا ہے اور کئی سینٹی میٹر سے بڑا بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح ممکن ہے کہ پوری طرح مریض ہوش میں ہو یا بالکل بے ہوش ہو، بعض حالات میں چند گھنٹوں کے اندر مریض کی جان بھی ضائع ہو سکتی ہے۔

امریکہ میں ہر چالیس سکینڈ پر کوئی ایک شخص فالج کے حملے کا شکار ہوتا ہے اور مفلوج ہونے والا ہر چوتھا مریض 65 سال سے کم عمر کا نکلتا ہے۔ اسی طرح ہر 15واں مریض ابھی عمر کی 45 ویں بہار بھی نہیں دیکھ پاتا کہ اسے فالج کے باعث موت یا معذوری میں سے کسی ایک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ فالج کا شکار ہونے والے بیشتر افراد کو آخر تک معلوم ہی نہیں ہوتا کہ خرابی کب اور کہاں پیدا ہوئی تھی۔

ہو سکتا ہے کہ طویل عرصے سے جاری صحت کی اندرونی خرابیاں اس کی وجہ ہوں لیکن نوجوانوں کے دماغوں میں دھماکہ خیز صورتحال فالج کی فوری تحریک کا سسب قرار دی جا سکتی ہے۔ منفی جذبات اور غلط سوج جو آپ کے دماغ میں ہوتی ہیں وہ اسی طرح ہلاکت خیز ثابت ہو سکتی ہیں، جس طرح دوران خون میں شامل ہو کی جمی ہوئی پھٹکی جان لیوا ہو سکتی ہے۔

فالج کا تعلق دماغ کی مختلف بیماریوں سے ہے۔ دراصل دماغ ہی ہے جو انسانی جسم کی حرکات کو کنٹرول کرتا ہے۔کوئی بھی بیماری جو دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے، فالج کر سکتی ہے۔ اس میں دماغ کی شریان بند ہو جانا یا پھٹ جانا سب سے عام وجوہات ہیں۔

دماغ آکسیجن کی کمی کو بہت تھوڑی دیر کے لئے برداشت کر سکتا ہے۔ خون کی نالیاں پھیپھڑوں سے آکسیجن جذب کرکے ایک یا دو سکینڈ میں دماغ کو پہنچا دیتی ہیں۔ اگر یہ رسد ایک یا دو منٹ کے لئے بھی بند ہو جائے تو دماغ کو شدید ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بعض اوقات آپ کا پاؤں یا ہاتھ نہیں ہل رہاہوتا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ٹھیک ہوجاتا ہے۔ یہ فالج کی ابتدائی علامت ہے

فالج یا اسٹروک دو طرح کے ہوتے ہیں جن میں ایک چھوٹا منی اسٹروک ہوتا ہے اور ایک بڑا فل اسٹروک ہوتاہے چھوٹے اسٹروک میں مریض کمزوری محسوس کرتا ہے،اس کا منہ ٹیڑھا ہوجاتا ہے اس کو بولنے میں دقت ہوتی ہے اس کے مریض جلد ٹھیک ہوجاتے ہیں

اگر مکمل علاج نہ کروایا جایے تو پھر فل اسٹروک ہونے کا امکان زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کا منہ مکمل طور پر ٹیڑھا ہو جاتا ہے جسم کا ایک حصہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے،بینائی کم ہوجاتی ہےقوت گویائی ختم ہوجاتی ہے، اس پر فوری علاج کی ضرورت پیش آتی ہے ذرا سی سستی مریض کی جان لے سکتی ہے۔

ایسے افراد جن کا ہاتھ یا پاؤں یا زبان تھوڑی دیر کے لئے کام کرنا چھوڑ دے انہیں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ سی ٹی سکین کروانے کے بعد انہیں خون پتلا کرنے والی ادویات دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد وجہ معلوم کی جاتی ہے۔ عام طور پر وجہ دل میں گلے کی نالیوں یا دماغ کی خون کی شریانوں میں ہوتی ہے۔خون پتلا کرنے والی ادویات بقیہ عمر کھانی پڑتی ہیں کیونکہ اگر ایک دفعہ خون گھاڑا ہو یا خون میں کلاٹ بنیں تو دوبارہ فالج بننے کا خطرہ ساری عمر رہتا ہے۔

فالج کی وجہ خون بند ہو جانا ہی نہیں دماغ میں شریان پھٹ جانا بھی ہے۔ اس صورت میں سر میں بہت سخت درد ہوتا ہے۔ مریض بے ہوش ہو جاتا ہے اور اسی دوران موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ شریان پھٹنے کے بعد فالج بہت جلد ہو جاتا ہے۔ جب کہ شریان بند ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی فالج ظاہر ہوتا ہے۔

سی ٹی سکین کروانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پتا چلے کہ دماغ کی شریان پھٹی ہے یا بند ہوئی ہے۔ اگر تو شریان بند ہو تو خون پتلا کرنے والی ادویات انتہائی ضروری ہیں اور اگر شریان پھٹ گئی ہے تو خون پتلا کرنے والی ادویات جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

فالج کی وجوہات

  • ذہنی دباؤ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ اپنے اسٹریس کو کنٹرول نہیں کریں گے تو اس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھے گااور خون زیادہ گاڑھا اور چپکنے والا ہو جائے گا اور ایسی صورت میں دماغ کے مختلف حصوں میں خون لے جانے والی نالیوں میں کوئی بھی پھٹکی جم کر خون کا راستہ روک سکتی ہے، جس کا نتیجہ فالج کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

  • جاریت

بڑھاپے پر تحقیق کرنے والے امریکہ کے قومی ادارے کے ایک حالیہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ وہ افراد جو مخالفانہ اور معاندانہ رویہ رکھتے ہیں، خاص طور پر وہ جو سازشی یا جوڑ توڑ کے ماہر ہوتے ہیں اور جن میں جاریت پسندی نمایاں ہوتی ہے ان کی Carotid Arteriesوہ دو شریانیں ہیں جو سر اور گردن کی طرف خون لے جاتی ہیں۔

اگرچہ اس خرابی کو پیدا ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں لیکن وہ نوجوان جو زیادہ جھگڑلو یا جاریت پسند ہوتے ہیں، ان میں بھی یہ شریانیں ضرورت سے زیادہ موٹی اور اندر سے تنگ ہو جائیں تو دماغ تک کا بہاؤ گھٹ سکتا ہے اور دماغ اکسیجن سے محروم ہو سکتا ہے ، اس کے نتیجے میں دماغی خلیے مر سکتے ہیں اور یہی فالج ہے۔

  • تنہائی

اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں ، نہ ہی یہ کوئی شاعرانہ بات ہے کہ تنہائی سے دل کو صدمہ پہنچتا ہےشکاگو یونیورسٹی میں تنہا رہنے والے بالغ افراد پر چار سال تک جاری رہنے والے ایک طبی جائزے میں یہ دیکھا جا چکا ہے کہ جو لوگ سب سے زیادہ تنہائی کا شکارتھے، ان کا Systolic بلڈ پریشر سالانہ3.6 ملی میٹر کی شرح سے بڑھ رہا تھا۔

ان نوجوانوں کے باڈی ماس انڈیکس، سگریٹ نوشی اور ورزش کی عادات کو مدنظر رکھنے کے باوجود اس نتیجے پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔ اس کی واحد ممکنہ وجہ یہ قرار دی گئی کہ تنہائی پسندی سے خون میں اسٹریس ہارمون "کورٹیزول” کی سطح بڑھ جاتی ہے جس سے بلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا ہے اور ساتھ میں فالج کا خطرہ بھی۔

پاؤں اور بغلوں کی بدبو سے مکمل نجات کے قدرتی طریقے

  • ازدواجی بے اطمینانی

جو لوگ مجرد یا تنہا زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں، صرف وہی فالج کی زد میں نہیں آتے بلکہ ایسے شادی شدہ افراد جو نام کے شادی شدہ ہوتے ہیں اور عملاً ان کی زندگی تنہائیوں کا شکار ہوتی ہے وہ بھی اسٹروک کا شکار ہو سکتے ہیں۔

2010 میں امریکن اسٹروک ایسوسی ایشن کے ایک جائزے میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایسے مرد حضرات جن کی ازدواجی زندگی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ، ان پر خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے والوں کے مقابلے میں فالج کے مہلک حملے کا خطرہ 64 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا ہے۔

ماہرین کے بقول اگر آپ اپنی شادی شدہ زندگی زندگی سے ناآسودہ ہیں تو ممکن ہےآپ معاشرہ سے کٹا ہوا محسوس نہ کریں لیکن آپ خود کو تنہا محسوس کر سکتے ہیں اور جس کا خمیازہ اس طرح بھگت سکتے ہیں جس طرح تنہائی کے شکار افراد جھیلتے ہیں۔

فالج کی علامات

  • جسم کے اعضاء کا سن ہو جانا

اگر آپ کے ہاتھ یا پیر سن یا بے حس ہورہے ہو تو آسانی سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ یہ اعصاب دب جانے کا نتیجہ ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا ہاتھ اچانک بے حس یا کمزور ہوجائے تو یہ کیفیت چند منٹوں میں دور نہ ہو تو فوری طبی امداد کے لیے رابطہ کیا جانا چاہئے۔ ان کے بقول شریانوں میں ریڑھ کی ہڈی سے دماغ تک خون کی روانی میں کمی کے نتیجے میں جسم کا ایک حس سن یا کمزور ہو جاتا ہے۔

  • نظر سے متعلقہ مسائل

فالج میں بنیائی کے مسائل جیسے کوئی ایک چیز دو نظر آنا، دھندلا پن یا کسی ایک آنکھ کی بنیائی سے محرومی فالج کی علامات ہوسکتے ہیں مگر بیشتر افراد ان علامات کو بڑھاپے یا تھکاوٹ کا نتیجہ سمجھ لیتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق تھکاوٹ یا بہت زیادہ مطالعے ایک چیز دو نظر آنا بالکل ممکن نہیں، درحقیقت خون کی ایک بلاک شریان آنکھوں کو درکار آکسیجن کی مقدار کو کم کردیتی ہے جس کے نتیجے میں بنیائی کے مسائل کا باعث بنتے ہیں اور اس دوران فالج کی دیگر علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں۔

  • بولنے میں مشکلات

فالج کے دوران بولنے میں ہکلاہٹ یا مشکلات ہوتی ہے۔ اور لوگ سوچتے ہیں یہ ان کی دوا کا اثر ہے مگر یہ فالج کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر اس سے پہلے یہی دوا استعمال کرنے پر آپ کو کسی قسم کے سائیڈ ایفیکٹ کا سامنا نہ ہوا تو پھر یہ فالج کی ایک علامت ہوسکتا ہے۔

او رآپ کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے رابطہ کرنا چاہئے۔ اگر بولنے میں دِقّت محسوس ہو تو فوری طور پر منہ کی ورزش کریں اور ہونٹوں کے قریب تیل سے مساج کریں اور اس کے علاوہ متوازن غذا کا استعمال کریں

  • سوچ میں مشکلات

اگر سوچنے میں دِقّت پیش آئے اور اکثر دماغ سے بات نکل جائے اور کچھ یاد نہ رہے تو فوراً اس کا نوٹس لیں کیونکہ یہ بھی فالج کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔بعض دفعہ لوگوں کو درست الفاظ کے انتخاب یا کسی چیز کے بارے میں پوری توجہ سے سوچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اکثر وہ اسے تھکن کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مگر اچانک دماغی صلاحیتوں میں کمی فالج کی عام علامت میں سے ایک ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خراٹوں سے مکمل نجات کے طریقے ! دانت اور داڑھ کے درد کا قدرتی علاج

طبی ماہرین کے مطابق ایک لمحے کے لیے تو سوچنے میں مشکل کا سامنا کسی بھی فرد کو ہوسکتا ہے مگر اس کا دورانیہ اگر بڑھ جائے تو یہ باعث تشویش ہے۔ ان کے بقول کئی بار تو مریضوں کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کیا چیز غلط ہے کیونکہ ان کا دماغ کام نہیں کررہا ہوتا اور ان کے سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں پانی زیادہ سے زیادہ پئیں اور ایسے کاموں میں مصروف ہو جائیں اور ایسی گیمز کھیلیں جہاں زیادہ سوچنا پڑے

  • آدھے سر کا درد

طبی ماہرین بتاتے ہیں کہ آدھے سر کے درد یا مائیگرین میں فالج بھی چھپا ہوسکتا ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ محض آدھے سر کا درد ہے ۔ اگر یہ تکلیف آپ کو پہلے سے متاثر نہ کرتی رہی ہو تو یہ فالج کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ان دونوں امراض میں دماغی علامات ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ ماہرین کے بقول آدھے سر کے درد کے شکار افراد کو اس کا علاج فالج کی طرح ہی کرانا چاہئے اور ڈاکٹروں سے مدد لینی چاہئے۔

فالج سے بچاؤ کی تدابیر

فالج سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔
فالج سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ روزانہ ورزش کی جائے۔ خوراک میں اعتدال رکھا جائے۔ زیادہ چکنائی اور نمک والی چیزوں سے پرہیز کیا جائے۔ ابتدائی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجو ع کیا جائے۔

اِس مرض میں مبتلا مریض کو علاج کے ساتھ ساتھ مناسب دیکھ بھال کی اور غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مرض میں مریضوں کو نگلنے میں تکلیف ہوتی ہے اور ان کی اورل کیویٹی بھی متعدد امراض کی زد میں آجاتی ہے، وہ خود سے باتھ روم بھی نہیں جا سکتے نہ ہی چل پھر سکتے ہیں، مسلسل لیٹے رہنے کی وجہ سے جسم پر زخم ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ انھیں ڈاکٹر کے مشورے سے غذا دی جائے ، ان کے دانتوں اور مسوڑھوں کا خاص خیالرکھا جائے۔ان کے لیے اییر میٹرس استعمال کیا جانا چاہیے ، ہر دو گھنٹے بعد کروٹ تبدیل کروایں فزیو تھراپی اور اسپیچ تھراپی کروائی جائے۔ علاج کے ساتھ ساتھ گھر والوں کی توجہ اور شفقت مریض کو جلد ٹھیک ہونے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

اگر فالج کا ذرا بھی شبہ ہوتو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ڈاکٹر کی تجویزکردہ ادویات،غذا کی تبدیلی،اور ذیابیطس پر مکمل کنٹرول رکھنے سے فالج سے بچاؤ ممکن ہے۔ہائی بلڈپریشر کے مریض متوازن غذا،نمک کاکم استعمال،آرام، ورزش اور بلڈ پریشر کم کرنے والی ادویات کا مستقل استعمال کریں۔کولیسٹرول پر کنٹرول اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں۔

اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ متذکرہ بالا تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ تاہم اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئیٹر، وغیرہ )پر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

ضروری نوٹ: فالج سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ تا ہم  ان ترکیبوں ، طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے  اپنے معالج ( طبیب، ڈاکٹر )سے مشورہ ضرور کریں۔ اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔شکریہ

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں