ڈپریشن کیا ہے۔ ڈپریشن کی بیماری، اس کی علامات، وجوہات اور علاج

ڈپریشن ایک ایسا خطرناک مرض ہے۔ جو نہ صرف آپ کی جسمانی و نفسیاتی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ آپ کے سونے جاگنے، کھانے پینے حتیٰ کہ سوچنے تک پر اثر انداز ہوتا ہے۔ آج کے زمانے میں یہ مرض اس قدر عام ہو چکا ہے کہ شاید ہی دنیا کا کوئی شخص اس سے محفوظ بچا ہو۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔

معاشرے کے بڑھتے ہوئے مسائل ،کم آمدنی اور زائد اخراجات، گھریلو پریشانیاں اور ملک کے بگڑتے ہوئے حالات نے انسان کو ڈپریشن کا شکار بنا دیا ہے۔ہر روز ہمیں کسی نہ کسی ایسی صورت حال سے گزرنا پڑتا ہے جس سے ہم مزید الجھنوں، ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

ڈپریشن کی علامات

ڈپریشن کی بے شمار علامات ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اگر اپ اپنی عادت و مزاج میں یہ تبدیلیاں دیکھیں تو جان لیں کہ آپ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔

1. مایوسی اور ناامیدی

ڈپریشن کی علامات میں سے بڑی علامت مایوسی اور ناامیدی ہے۔ اس مرض میں مبتلا افرادکبھی بھی کوئی کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ کیونکہ ایسے افراد مثبت سوچ کے بجائے وہم اور وسوسوں پر یقین کرتے ہوئے فوراً مایوس اور ناامید ہو جاتے ہیں۔ اور یہی مایوسی اور ناامیدی انہیں خودکشی جیسا سنگین اقدام اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

2. چڑچڑاپن، ہچکچاہٹ

ڈپریشن کا اثر سب سے زیادہ انسان کی طبیعت پر پڑتا ہے۔ اس مرض کی وجہ سے انسان کی طبیعت میں چڑچڑاپن آجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے بندہ بات بات پر غصہ کرنے لگتا ہے۔ چھوٹی موٹی اور معمولی باتوں پر دوسروں کے ساتھ لڑائی جھگڑا شروع کر دیتا ہے۔ اور کبھی کبھار تو طبیعت میں تذبذب اور ہچکچاہٹ کا عنصر اس قدر حاوی ہو جاتا ہے کہ بندہ نہ تو کسی کے سامنے کچھ کر سکتا ہے اور نہ ہی کچھ کہہ سکتا ہے۔

3. نیند میں میں کمی یا بے سکونی

اگر آپ رات بھر بے سکون رہتے ہیں اور ٹھیک سے سو نہیں سکتے۔ اورنہ ہی صبح اٹھ کر خود کو تازہ دم محسوس نہیں کرتے ہیں تو یہ بھی ڈپریشن کی طرف اشارہ ہے۔کیونکہ طبی ماہرین کے مطابق بے خوابی، نیند کا ختم ہوجانا یاسونے میں ناکامی وغیرہ ڈپریشن کی علامات ہیں، یہ چیزیں متاثرہ افراد کے لیے ذہنی جھنجھلاہٹ کا باعث بنتی ہیں۔

4. خوارک اور وزن میں کمی بیشی

ڈپریشن میں مبتلا افراد کے کھانے پینے کی روٹین تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ بعض اوقات وہ بہت زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں،اور بعض اوقات ان کی کھانے سے دلچسپی ختم ہوجاتی ہے اور بھوک بالکل نہیں لگتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈپریشن ان ہارمونز پر بھی اثرانداز ہوتا ہے جو کہ خوراک کی خواہش کو کنٹرول کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں لوگ یا تو بہت زیادہ کھالیتے ہیں یا بالکل بھی نہیں کھاتے۔ جس کے وجہ سے جسمانی وزن میں اضافہ یا کمی ہونے لگتی ہے۔

5. کام میں عدم دلچسپی

اگر آپ کو روز مرہ کے کام میں توجہ مرکوز کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے، یا آپ کا دل کام میں نہیں لگ رہا، اورآپ اپنے کام کے دوران بے شمار غلطیاں کر رہے ہیں تو یہ بھی ڈپریشن کی ایک علامت ہے۔اس مرض میں مبتلا افرادکی نہ صرف اپنے متعلقہ کام میں دلچسپی ختم ہوتی ہے۔ بلکہ باقی معاشرتی سرگرمیوں میں بھی ان کا دل نہیں لگتا۔

6. قوت فیصلہ کا فقدان

ڈپریشن کا شکار افراد میں قوت فیصلہ بہت کم ہو جاتی ہے، کیونکہ ایسے افراد بہت سی الجھنوں کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے ان کو چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔حتیٰ کہ بعض اوقات وہ یہ بھی فیصلہ نہیں کر پاتے کہ انہیں چائے پینی ہے یا مشروب، کپڑے کون سے لینے ہیں، کھانا میں کیا کھانا ہے۔عزیزوں رشتے داروں میں سے کس کو وقت دینا ہے اور کس کو ٹرخا دینا ہے۔حتیٰ کہ ایسے افراد اگر ڈاکٹر کے پاس چلے جائیں تو اسے اپنی تکلیف کے بارے میں بھی نہیں بتا سکتے ۔

7. زندگی سے بیزارگی

اس مرض میں مبتلا افراد اپنی زندگی سے بیزار نظر آتے ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ اور وہ کس لیے زندہ ہیں۔ بعض اوقات بغیر کسی وجہ کے ڈپریشن شروع ہو جاتا ہے اور بڑے بڑے کامیاب لوگ جن کی زندگی ہر لحاظ سے قابل رشک ہوتی ہے انہیں بھی زندہ رہنے کا دل نہیں کرتا۔ ان کے لبوں پر بس یہی سوال ہوتے ہیں،

  • کیا کروں یار، آج کل کسی کام میں دل نہیں لگتا۔
  • کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔
  • کچھ کرنے کا دل نہیں کرتا۔
  • زندگی رک سی گئی ہے۔ وغیرہ وغیرہ

8. بلا وجہ جسمانی درد

کمر میں درد، پٹھوں میں تکلیف یا جسم میں کسی بھی جگہ بلاوجہ درد ڈپریشن کی علامت سمجھی جاتی ہے، طبی ماہرین کے مطابق درد مزاج کے مطابق جسم پر حملہ آور ہوتا ہے، اگر آپ ذہنی طور پر مایوس یا پریشان ہیں تو تکلیف کا احساس زیادہ ہوتا ہے جبکہ خوشی کی حالت میں درد کا احساس نہیں ہوتا۔ ڈپریشن نہ صرف سردرد کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے مریضوں میں آدھے سر کے درد کی شکایت عام ہوتی ہے۔علاوہ ازیں ہر وقت تھکاوٹ اور توانائی کی کمی کا احساس بھی ڈپریشن کی علامات میں سے ہے۔

9. جلد اور معدے کے مسائل

ڈپریشن کے باعث بننے والے ہارمونز جلد کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں، ڈپریشن کے دوران ان ہارمونز کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں اکثر مریضوں کو کیل مہاسوں، چنبل اور خارش وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ سینے میں جلن، قبض، ہیضہ اور قے وغیرہ بھی ڈپریشن سے جڑے ہوئے ہوسکتے ہیں، خاص طور پر یہ امراض ان لوگوں کے لیے زیادہ بدتر ہوجاتے ہیں جو ذہنی بے چینی یا تشویش کا شکار ہوتے ہیں۔

10. خودکشی کا خیال

ڈپریشن زیادہ ہو جائے تو اس کا نتیجہ خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے ۔خود کشی کرنے والے ہر پانچ افراد میں سے چار افراد ابتدائی طور پر سنگین ڈپریشن سے دوچار ہوتے ہیں۔اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ایسے افراد جو خودکشی کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں ۔ حقیقت میں وہ ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔

11۔ بلیو وہیل چلینج

بلیو وہیل نامی گیم کھلینا بھی ڈپریشن کی علامت ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی خطرناک گیم ہے جس کا انجام خودکشی ہوتا ہے۔ اور یہ گیم اب تک ایک سو پچاس سے زائد نوجوانوں کی جان لی چکی ہے۔ بلیو وہیل گیم کے بارے میں مکمل تفصل جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نوٹ: اگر درج بالا گیارہ علامات میں سے چار سے زائد علامات آپ میں بھی پائی جاتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی ڈپریشن کے مرض کا شکار ہیں۔

ڈپریشن کی وجوہات

  • محبت یاکسی مقصد میں ناکامی، گھریلو لڑائی جھگڑے اور بے روزگاری جیسے مسائل انسان کو ڈپریشن کی طرف لے جاتے ہیں۔
  • بہت زیادہ ذہنی دباؤ یا جسمانی تھکن میں جب انسان بالکل تنہا ہو توایسی صورت میں ڈپریشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
  • بعض افراد انتہائی حساس ہوتے ہیں، اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو خود پرحاوی کرلیتے ہیں۔ اور اپنا دھیان بٹانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ایک ہی بات کو باربارسوچتےچلے جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے ان کی ٹینشن بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔
  • زیادہ تر لوگ اپنے دل کی باتیں دل میں رکھتے ہیں،اور دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی سوچیں مزید الجھ کر ان کو ڈپریشن کا مریض بنا دیتی ہیں۔
  • کسی قریبی عزیز کے انتقال، کسی اپنے کی طلاق یا بے روزگاری کی صورت میں کچھ عرصہ اداس رہنا فطری عمل ہے مگر بعض افراد اس اداسی سے باہر نکل نہیں پاتے جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔
  • موبائل فون کا حد سے زائد استعمال ڈپریشن کو بڑھا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال بھی ڈپریشن کی ایک اہم وجہ ہے۔

ڈپریشن کا علاج

کہتے ہیں کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ آج ایزی استاد میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کیسے آپ ماہر نفسیات کے پاس جائے بغیر گھر پر ہی ڈپریشن کا علاج کر سکتے ہیں۔

1. مراقبے کے ذریعے علاج

مراقبہ ذہنی یکسوئی حاصل کرنے کی ایک مشق کا نام ہے، مراقبہ کے ذریعہ ذہنی انتشار سے نجات ملتی ہے ذہن کو سکون ملتا ہے اور ذہنی یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔اس کے علاوہ مراقبہ کرنے والے افراد گہری اور پرسکون نیند سوتے ہیں۔ مراقبہ کرنے سے ذہنی سکون ، یاداشت کی بہتری، خوداعتمادی، عزم و مستقل مزاجی کی صفات،صبر ، قوت برداشت ، تجزیہ کرنے اور نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور احساس کمتری، اداسی، ٹینشن، ڈپریشن جیسے امراض سے نجات مل جاتی ہے۔

2. خوشی اور مسکراہٹ

خوشی اور مسکراہٹ سے نہ صرف آپ کی صحت اچھی ہوتی ہے۔ بلکہ ڈپریشن میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ جب آپ ڈپریشن کا شکار ہوں تو کوئی مزاحیہ فلم دیکھیں یا مزاحیہ کتاب پڑھیں۔ ایسے دوستوں سے ملیں جن کا حس مزاح اچھا ہو۔ ہنسنے سے دماغ کے مضر کیمیکلز میں کمی واقع ہوتی ہے اور آپ فوری طور پر بہتر محسوس کرتے ہیں۔

ہنسنے اور مسکرانے سے نہ صرف ٹینشن،مایوسی، اداسی بلکہ دکھ اور تکلیف میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔اس کے علاوہ کوشش کریں کہ زندگی میں جو برا ہوا ہے اس کو بھول جائیں۔ اور اچھی یادوں کو ہمیشہ یاد کر زندگی کو مزید خوشگوار بنائیں۔

3. جسم کو حرکت میں رکھنے والے عوامل

بھاگنے ،دوڑنے اور سیڑھیاں چڑھنے سے سانس کی آمد و رفت تیز ہوتی ہے۔ اورجسم زیادہ آکسیجن جذب کرتا ہے۔زیادہ آکسیجن جذب کرنے سے جسمانی اعضا فعال ہوتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں جسم میں مضر اثرات رکھنے والے ہارمون کم پیدا ہوتے ہیں۔ اوران کیمیکلز کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے جو دماغ کو خوشی کا سگنل دیتے ہیں۔ اس سے ڈپریشن میں کافی حد تک کمی واقع ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں مختلف قسم کی کھیلوں (کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، والی بال، ٹینس، تیراکی وغیرہ) میں خود کو مشغول رکھنے سے نہ صرف دماغ فریش ہوتا ہے بلکہ جسم کی بھی سر سے پاؤں تک حرکت کی وجہ سے خون کی گردش میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو ذہنی دباؤ کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

4. سر کی مالش،چہرے کا مساج

سر کی مالش چہرے، بھوؤں، اور آنکھوں کا ہلکا سا مساج کرنا بھی ذہنی دباؤ کم کرنے کا سبب بنتا ہے۔یہ عمل دوران خون تیز کرنے کا سبب بنتا ہے۔ دوران خون تیز ہوگا تو دماغ خود بخود تازہ دم ہوگا اور اس پر چھایاہوا تناؤ کم ہوجائے گا۔ایک مصروف اور تناؤ بھرا دن گزارنے کے بعد دس سے پندرہ منٹ کا یہ عمل آپ کے دماغ کو سکون فراہم کردے گا۔

5. صبر وشکر

صابر و شاکر شخص کو زندگی میں کبھی بھی کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ ڈپریشن کی وجوہات ہماری خود کی پالی ہوئی ٹینشن اور پریشانیاں ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر آپ ڈپریشن کی بیماری کا شکار ہیں تو آپ کو چاہیے کہ اپنے سے کم حیثیت کے لوگوں کو دیکھیں اور ان سے اپنی زندگی کا موازنہ کر کے اللہ پاک کا شکر ادا کریں۔

جتنا ملا ہے اس پر صبر و شکر کریں اور اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں۔ زندگی کی محرومیوں پر غور کرنے سے ذہنی دباؤ اور ناخوشی میں اضافہ ہوتا ہے۔جبکہ شکر گزاری کی عادت دماغ کو مطمئن اور خوش کرتی ہے۔

6. دوستوں، رشتے داروں سے میل جول

ڈپریشن کا حملہ اس شخص پر شدت کے ساتھ ہوتا ہے جو اکیلا اور تنہا زندگی بسر کرتا ہے۔کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اکیلا دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔جس میں طرح طرح کے وہم اور وسوسے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ تنہا رہنے سے انسان میں احساس کمتری پیدا ہو جاتی ہے۔ اور انسان سمجھتا ہے کہ میری اس معاشرے ، خاندان ،رشتوں اور دوستوں میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ یہی سوچیں ڈپریشن کی راہ ہموار کرتی ہیں۔

ڈپریشن سے نجات کے لیے ضروری ہے کہ اپنے ملنے جلنے والوں سے اچھے اور مخلصانہ تعلقات رکھیں۔ زیادہ سے زیادہ دوست بنائیں اور دوستیاں پروان چڑھائیں، رشتوں کی پہچان کریں اور گھراور خاندان میں اپنے فرائض و حقوق کو سمجھتے ہوئے انہیں پورا کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ طبی ماہرین نے باقاعدہ ریسرچ سے ثابت کیا ہے کہ قریبی رشتوں جیسے والدین، بہن بھائی، شریک حیات یا دوستوں کے گلے لگنا ڈپریشن میں کمی کا سبب بنتا ہے۔

7. سماجی سرگرمیاں

سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیں اس سے نہ صرف آپ دوسروں کے کام آئیں گے بلکہ آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت بھی اچھی ہوگی۔ کیونکہ لوگوں سے دوری اور بے نیازی ڈپریشن کا ایک سبب ہے لہٰذا دوسروں کے کام آنے اور ان سے تعلقات بڑھانے سے آپ اس مرض پر قابو پاسکتے ہیں۔

8. ڈپریشن کو کم کرنے والے دیگر عوامل

  • موسم کی مناسبت سے سرد یا گرم پانی سے غسل کرنا بھی ذہنی تناؤ کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے اور دماغی اعصاب کو پرسکون رکھتا ہے۔
  • اکثر اوقات اگر آپ کو آپ کی پسند کا بہترین کھانامل جائے تو اس سے بھی آپ کے موڈ پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
  • کہا جاتا ہے کہ رنگوں اور مصوری کا تعلق دماغ کے خوشگوار اثرات سے ہوتا ہے۔اس لیے اگر آپ کے پاس وقت ہے تو مصوری کریں، یہ یقیناً آپ کے موڈ پر خوشگوار اثرات مرتب کرے گا۔
  • پسندیدہ پھولوں کی خوشبواور پروفیومز کی خوشبو سونگھنا دماغ پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔
  • شہد ملے دودھ کے ساتھ سیب کھانا ہر طرح کے ڈپریشن میں مفید ہے۔
  • روشنی چاہے فطری ہو یا مصنوعی ہماری نفسیاتی حالت پر اچھا اثر ڈالتی ہے سو گھر میں روشنی کا بہتر انتظام کریں ۔
  • جوکام مشکل اور پیچیدہ ہوں انھیں چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ لیں اس طرح وہ کام آسان ہوجائیں گے اور آپ کو ٹینشن بھی نہیں ہو گی۔
  • نفرت، غصے، پشیمانی اور حسدکے جذبات کو دل سے نکال دیں۔محبت ،خوشی اور پیار کے جذبات دل میں بسالیں،اس سے آپ کا دل راضی ہوگا اور آپ خوش وخرم رہیں گے۔نیز ضرورت مندوں کی مددکریں اس سےبھی آپ کو دلی سکون ملے گا۔

9. ڈپریشن سےمکمل نجات کا آسان طریقہ

ہو سکتا ہے کہ اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی ڈپریشن آپ کی جان نہ چھوڑے ۔ تو کیوں ناں آخر میں آپ کو ڈپریشن کے مرض سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جان چھڑانے کا ایسا سیکریٹ طریقہ بتا دوں جو آپ کی زندگی بدل کر رکھ دے۔

پانچ وقت خشوع و خضوع کے ساتھ باجماعت نماز ادا کریں، آپ کی زندگی سےڈپریشن تو کیا _____ ہر قسم کی ٹینشن، پریشانی، اداسی، ناامیدی ایسے نکال دی جائے گی۔ جیسے جنت سے شیطان کو نکالا گیا تھا۔

ڈپریشن سے متعلقہ یہی تحریر آپ رومن اردو میں بھی پڑھ سکتے ہیں

نوٹ: اس تحریر سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

2 comments

  1. السلام عليكم سر آپ کی تحریر جہاں بہت تجربات پہ مبنی اور پر خلوص ہے وہی آپ کا انداز بهی ماشاءاللہ ہے آپ کے افکار و انداز سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے آپ بہت اچھے انسان اور پیارے مسلمان ہے جن کا ہمارے معاشرے میں کافی فقدان ہے الله عزوجل آپ کی تمام کاوشوں کو مقبول اور قبول فرمائے ہمیں بہت خوشی ہوئی آپ کی تحقیق پڑھ کر
    از تحریر اویس قادری عمان

    1. وعلیکم السلام
      آپ نے میرے بارے میں کچھ زیادہ ہی گمان کر لیا۔ حالانکہ میں تو بس اپنی سی کوشش کرتا ہوں۔
      اللہ پاک آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ کی نیک خواہشات اور پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ

اپنی رائے کا اظہار کریں